عظمتِ صحابہؓ: قرآن کی نظر میں — قسط: 03

سلسلہ: عظمتِ صحابہؓ — قسط نمبر: 03

✍🏼 تمہید: جن کی صحبت میں بیٹھنا جنت کا دروازہ کھولتا تھا، جن کی زبان سے نکلا ہر حرف ایمان کا ترجمان تھا، اور جن کے چہروں پر ایمان جھلکتا اور دلوں میں اخلاص موجزن تھا۔ وہی مقدس ہستیاں جنہیں قرآن نے سراہا اور جن پر ربِّ ذوالجلال راضی ہو گیا۔

آئیے ان عظیم المرتبت نفوسِ قدسیہ کے فضائل پر قرآن کی روشنی میں ایک جھلک ڈالتے ہیں۔

👈🏼 فرمانِ الٰہی: اللہ ربّ العزّت نے قرآنِ مجید میں صحابۂ کرامؓ کی خدمات اور قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ فرما دیا ہے:

"اور مہاجرین و انصار میں سے وہ اولین لوگ جو (ہجرت کرنے اور ایمان لانے میں) دوسروں پر سبقت لے گئے، اور وہ لوگ جنہوں نے خلوصِ دل سے ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا، اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے، اور اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کر دی ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔" (سورہ التوبہ: 100)

👈🏼اس آیتِ کریمہ میں تین عظیم طبقات کا تذکرہ ہے:

مہاجرین: وہ عظیم صحابہؓ جنہوں نے اللہ کی خاطر اپنا وطن، گھر بار اور مال و متاع چھوڑ کر مدینہ ہجرت کی۔

انصارِ مدینہ: وہ بلند مرتبہ اہلِ ایمان جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین کی نصرت کی اور اپنا تن من دھن نچھاور کر دیا۔

پیروکارانِ سابقین: وہ خوش نصیب جنہوں نے ان اولین صحابہؓ کی اخلاص کے ساتھ پیروی کی (تابعین اور قیامت تک آنے والے سچے مومنین)۔

✍🏼دو عظیم خوشخبریاں: اللہ تعالیٰ نے ان طبقات کو دو بے مثال بشارتیں عطا فرمائیں:

رضائے الٰہی: اللہ ان سے راضی ہو گیا، ان کی نیکیاں مقبول ہوئیں اور لغزشیں معاف فرما دی گئیں۔ ❷ ہمیشہ کی جنتیں: ایسی کامیابی جس کا وعدہ خود خالقِ کائنات نے کیا ہے۔

(ماخوذ: التفسیر الدر المنثور، جلد 4، صفحہ 272)

✍🏼 آخری پیغام: صحابہؓ کا انکار درحقیقت قرآن کی ان آیات کا انکار ہے جن میں اللہ ان کی تعریف فرما رہا ہے۔ جو رب انہیں اپنی رضا کا پروانہ عطا کر چکا، اس کے بعد کسی مومن کے دل میں ان کے خلاف لب کشائی کی گنجائش نہیں رہتی۔

✍🏼تربیتی نکات: ❶ صحابہ کرامؓ کی عظمت و عدالت قرآن سے ثابت ہے، اسے مشکوک سمجھنا ایمان کے منافی ہے۔ ❷ ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم انہیں "معیارِ حق" مان کر ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔ ❸ اپنی نسلوں کے دلوں میں صحابہؓ کی محبت پیدا کریں، کیونکہ یہی اسلام کی بقا ہے۔